مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے درمیان امید اور غیر یقینی صورتحال ایک ساتھ نظر آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم تہران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ابھی جاری
مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے درمیان امید اور غیر یقینی صورتحال ایک ساتھ نظر آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم تہران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا گیا۔
اس متضاد صورتحال نے دنیا بھر کی توجہ دونوں ممالک کے درمیان جاری بات چیت پر مرکوز کر دی ہے۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
جمعہ کو ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں نافذ بحری ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے اور جنگ بندی میں توسیع کے منصوبے پر جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ختم کرنا ہوگی اور آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بلا رکاوٹ کھولنا ہوگا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ناکہ بندی کی وجہ سے پھنسے ہوئے جہاز اب اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو سکتے ہیں۔
ایران نے دعوے کو کیوں مسترد کیا؟
ایران نے امریکی دعوؤں کو قبل از وقت قرار دیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور کسی حتمی سمجھوتے پر اتفاق نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے اور کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا کہ امریکہ کی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور اصل صورتحال کا اندازہ صرف عملی اقدامات سے ہوگا۔
60 روزہ جنگ بندی پر غور
اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے ابتدائی مسودے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس دوران مستقل امن معاہدے کی شرائط پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔
فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا دونوں ممالک بیانات سے آگے بڑھ کر اعتماد سازی میں کامیاب ہوں گے یا یہ مذاکرات بھی ماضی کی کوششوں کی طرح ادھورے رہ جائیں گے۔
Comments 0